قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ واالہ : إنّما سمّي رمضان، لأنّه يحرق الذنوب ؛ اس مہینہ کا نام رمضان اس لئے رکھا گیا کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلا دیتا ہے ۔ (شرح فروع الکافی ،ج/۴)

قرآن و اہلبيت عليہم السلام كي خدمت كرنے والوں كي قدرداني اور حوصلہ افزائي كرني چاہئے : حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني

۲۱ فروري ۲۰۱۲ ، بروز سہ شنبہ حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي گلپائگاني سے جامعۃ القرآن الكريم كے مدير اور مختلف ممالك كے حفاظ قرآن نے ملاقات كي ۔
معظم لہ نے جامعۃ القرآن الكريم كے مدير كا ان كي قرآني فعاليت پر شكريہ ادا كيا اور اس بات كا تقاضا كيا كہ معارف اہلبيت عليہم السلام كي طرف مزيد توجہ كي جائے تاكہ قرآن كريم كے يہ سچے مفسرين معارف اہلبيت(ع) سے بھي آشنا ہوں ۔
حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے قرآني تعليمات كو نورانيت كا باعث قرار ديتے ہوئے فرمايا : معاشرہ كا ہر عيب و نقص قرآن كريم سے انسيت نہ ہونے كي بنياد پر ہے ، سماج ميں جتنا قرآن كريم كي انسيت ہوگي اتنا معاشرہ كامياب و سرفراز ہوگا اور عيب و نقص سے پاك ہوگا ۔
انھوں نے تفسير قرآن كي تعليم كي اہميت كو بيان كرتے ہوئے فرمايا : اگر حفاظ قرآن ، قرآن كريم سے متمسك رہنا چاہتے ہيں تو انھيں دامن اہلبيت(ع) سے بھي متمسك ہونا ہوگا اور آيات قرآن كي تفسير ان سے حاصل كرني ہوگي ۔
مرجع تقليد نے حفاظ قرآن اور قرآني معارف كي تعليم حاصل كرنے والوں كي تشويق و ترغيب كو بہت ہي اہم قدم بتايا اور كہا : قرآني معاشرے ميں وہ لوگ لائق قدرداني و شكريہ ہيں جو قرآن و اہلبيت(ع) كي خدمت ميں ہيں ، ايسے لوگوں كي تشويق جو معارف قرآن كے خلاف عمل كرتے ہيں اور اپني زندگي كو گناہوں ميں بسر كرتے ہيں ، جائز نہيں ہے ۔ افسوس كہ جس طرح حفاظ قرآن اور مفسرين كي قدرداني اور حوصلہ افزائي ہوني چاہئے ، ويسي نہيں ہوتي ہے ۔
 

معظم لہ نے قرآن حفظ كرنے والي خواتين كو مخاطب كر كے فرمايا : جن خواہران نے قرآن حفظ كيا ہے انھيں قرآني تعليم كے سايہ ميں زندگي گزارني چاہئے تاكہ دوسروں كے لئے سرمشق بن سكيں ۔
مرجع عظيم الشان تقليد نے اپنے بيان ميں اشارہ كيا كہ آج كے دور ميں قرآن كريم كي ہم وزن ذات حضرت بقيۃ اللہ الاعظم ارواحنا فداہ كي ذات گرامي ہے ،تمام شيعوں كو ان سے متوسل رہنا چاہئے اور كوشش كرني چاہئے كہ قلب مبارك امام زمانہ(عج) ان سے راضي و خوشنود رہے ۔ جو بھي برادران و خوہران اس قرآني مركز ميں زير تعليم ہيں انھيں امام سے استعانت و امداد طلب كرني چاہئے تاكہ حضرت كي خاص عنايات ان كے شامل حال ہوں ۔
اس ملاقات كے آغاز ميں جامعۃ القرآن الكريم كے مدير حجۃ الاسلام طباطبائي نے اس موسسہ كي كاركردگي كي رپورٹ حضرت آيۃ اللہ العظميٰ كي خدمت ميں پيش كي اور معظم لہ كي خاص توجہات كا شكريہ ادا كيا ۔
نيز حضرت آيۃ اللہ العظميٰ صافي كي گفتگو سے قبل اس مركز كے ايك خردسال حافظ قرآن جو كہ حفظ قرآن كے ساتھ
ساتھ تفسير پر بھي عبور ركھتا تھا اس نے قرآن كي چند آيات كي تلاوت كي ۔ اس خرد سال حافظ قرآن كي عمر صرف ۸ سال تھي جس كا تعلق مشرقي آذربائجان سے تھا، جسے آيۃ اللہ العظميٰ صافي نے خاص انعامات سے نوازا ۔